نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے
گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے
میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب
ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے
نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ
کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے
ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے
کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے
چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں
سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے
وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں
یہ اور بات مقدر ہمارا ایسا ہے
نہیں ہے کچھ بھی نظر کی شگفتگی کے سوا
کھلا جو آنکھ پہ خالدؔ، نظارہ ایساہے
Related posts
-
افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک... -
آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو...
